برلن،3اپریل(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)جرمنی سمیت کئی یورپی ملکوں کے بہت سے شہروں میں لاکھوں شہریوں نے اتوار دو اپریل کے روز متحدہ یورپ کے حق میں مظاہرے کیے۔ عوامی سطح پر ان مظاہروں کے ہر ہفتے انعقاد کا سلسلہ گزشتہ برس کے آخر میں شروع کیا گیا تھا۔جرمن دارالحکومت برلن سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ان مظاہروں کا اہتمام جرمنی سمیت یورپی یونین کے کئی دیگر رکن ملکوں میں بھی کیا گیا اور ان کا مقصد متحدہ یورپ کے تصور کے لیے عملی تائید و حمایت کا اظہار تھا۔ان عوامی مظاہروں کے اہتمام کا سلسلہ 2016ء کے آخر میں عوامی سطح پر کام کرنے والی ایک تنظیم ’پَلس آف یورپ‘ یا ’یورپ کی نبض‘ کی طرف سے شروع کیا گیا تھا، جو اب کئی یورپی ملکوں میں پھیل چکی ہیں۔برلن میں ایسے ہی ایک مظاہرے میں ہزار ہا شہریوں نے حصہ لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی طرف سے متحدہ یورپ کے حق میں آواز بلند کرنے کا مقصد یہ سوچ ہے کہ یورپی ریاستوں میں بڑھتی ہوئی قوم پسندانہ ذہنیت کی مخالفت کی جانا چاہیے اور ان سیاسی قوتوں کا مقابلہ کیا جانا چاہیے، جو ایک بلاک کے طور پر یورپی یونین کی مخالفت کرتی ہیں۔
یورپی یونین کے رکن ملکوں میں، چاہے وہ جرمنی اور فرانس ہوں یا پھر اٹلی اور ہنگری جیسی ریاستیں، ان مظاہروں کی ضرورت کیوں پیش آئی، اس کی وضاحت کل دو اپریل کو برلن کے مظاہرے میں شریک ایک بزرگ جرمن شہری کرسٹیان کے موقف کے ساتھ کی جا سکتی ہے۔گزشتہ قریب نصف صدی سے اپنی اہلیہ کے ساتھ برلن میں رہنے والے اس جرمن شہری نے کہا، ”ہم نے اس شہر کی تقسیم بھی دیکھی ہے، دیوار برلن کا گرایا جانا اور سرد جنگ کا خاتمہ بھی۔ اب آئندہ نسلوں کے لیے قوم پسندی کے حق میں اور یورپی اتحاد کے منافی سوچ کے تحت نئی رکاوٹیں کھڑی کرنے کی سوچ کو محض ایک ڈراؤنا خواب ہی کہا جا سکتا ہے۔ ہم اسی سوچ کی مخالفت کے لیے ان مظاہروں میں شرکت کرتے ہیں۔“